جاں پرور

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - روح کو تسکین دینے والا، فرحت بخش۔  شراب لالہ گوں آئی ہے بطحا کے خمستاں سے ہر اک گھونٹ اس کا جاں پرور ہے پیتا چل پلاتا چل      ( ١٩٣٩ء، چمنستان، ٢٢٨ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'جاں' کے ساتھ مصدر 'پروردن' سے مشتق صیغۂ امر 'پرور' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے مرکب توصیفی 'جاں پرور' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٥١٨ء میں 'مشتاق' کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔